التحميل مجاناً لكن نقدم بعض الخدمات المدفوعة ادعمنا بالإشتراك فيها
حذف الإعلانات وتسريع تصفح المكتبة.
يبدأ التحميل بضغطة زر دون انتظار تجهيز الكتاب.
لا حدود لمرات التحميل.
يمكنك رفع كتب بلا حدود بالمكتبة.
تمكين القراء من تحميل كتبك دون إنتظار.
حذف الاعلانات على الكتب التي تنشرها.
لا مشاكل في روابط التحميل لكتبك المرفوعة.
مصدر الكتاب
تم جلب هذا الكتاب من موقع archive.org على انه برخصة المشاع الإبداعي أو أن المؤلف أو دار النشر موافقين على نشر الكتاب في حالة الإعتراض على نشر الكتاب الرجاء التواصل معنا
| مؤلف: | كاتب غير محدد |
| قسم: | أسماء الله الحسنى [تعديل] |
| اللغة: | العربية |
| الصفحات: | 267 |
| حجم الملف: | 34.58 ميجا بايت |
| نوع الملف: | |
| تاريخ الإنشاء: | 12 مايو 2020 |
| ترتيب الشهرة: | 476,093 رقم 1 هو الأشهر ! |
| رابط مختصر: | نسخ |
| المزيد من الكتب مثل هذا الكتاب | |
اس کتاب میں اسماء الحسنی سے متعلق روایات پر بحث کی گئی ہے - توحید کے مضامین قرآن میں شرح و بسط کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں لیکن قرن دوم کے آغاز پر عراق و شام میں جھم بن صفوان نامی ایک شخص کا عقیدہ لوگ اختیار کر رہے تھے جس کے مطابق اللہ تعالی اس کائنات میں ہر مقام پر موجود ہے - یہ موقف وحدت الوجود کے نام سے صوفی فرقوں (یعنی دیو بندی و بریلوی وغیرہم ) میں مقبول ہے کہ تمام کائنات اللہ تعالی ہی ہے - خالق و مخلوق میں کوئی دوئی و فرق نہیں ہے - کتب صوفیاء میں اس بات کو پلٹ پلٹ کر لا تعداد حکایتوں کی صورت سمجھایا گیا ہے -
دوسری طرف قرن سوم تک جا کر بہت سی روایات جمع ہو چکی تھیں جن میں رب العالمین کے جسم کی بات کی گئی تھی مثلا اللہ تعالی کے اعضا کا ذکر ان روایات میں موجود ہے - ان روایات پر بغداد میں مناظرے ہوتے تھے اور محدثین کا ایک گروہ کہتا تھا عرش عظیم پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا جائے گا - امام مالک فرماتے تھے کہ اس قسم کی روایات جن میں اللہ تعالی کے چہرے کو آدم علیہ السلام سے ملایا گیا ہو ان کو روایت مت کرو ، نہ یہ روایت کرو کہ اللہ تعالی کا عرش سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر ڈگمگا گیا - نہ عرش پر سوال کرو - اللہ تعالی عرش پر ہے لیکن کس طرح ؟ اس میں سوال بدعت ہے - یہ موقف تفویض کہلاتا ہے کہ ہم ان آیات کو متشابھات سمجھ کر ایمان لاتے ہیں اور تاویل اللہ کو سونپتے ہیں - اسماء و صفات کی بحث میں ان محدثین کو المفوضہ کہا جاتا ہے
تیسری طرف ایک گروہ گیا جس کو الحشویہ یا المجسمیہ کہا جاتا ہے – ان کا موقف ہے کہ اللہ تعالی کے اعضا ہیں بس انسان سے سائز میں بڑے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے لیس کمثلہ شی اللہ کے جیسا کوئی نہیں - یہ موقف آجکل اہل حدیث و سلفی و وہابی فرقوں کا ہے - ان کے نزدیک عرش و اللہ تعالی سے متعلق آیات متشابھات نہیں ہیں - اسی طرح ان کے نزدیک قرآن و حدیث میں اگر کسی مقام پر ضمیر اللہ کی طرف ہو تو اس آیت و حدیث کا ظاہری مطلب لیا جائے گا - اس طرح ان کے نزدیک ہر روز ذات باری تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے کیونکہ یہ حدیث میں ہے - آسمان دنیا اس طرح اللہ تعالی میں جذب ہو جاتا ہے - اس حلولی عقیدے کو اختیار کر کے یہ لوگ جھمیؤن سے کم نہ ہوئے - اس گروہ میں امام احمد کے بیٹے ، ابو بکر الخلال، ابن تیمیہ و ابن قیم وغیرہ ہیں –
چوتھا موقف ان علماء کا ہے جو متکلمین تھے اور امام ابو الحسن اشعری کے مذھب پر ہیں کہ اللہ تعالی سے متلعق آیات متشابھات ہیں اور احادیث کی تاویل کی جائے گی مثلا روز اللہ تعالی آسمان دنیا نازل نہیں ہوتے بلکہ ان کی رحمت نازل ہوتی ہے - مخالفین کی جانب سے ان علماء کو موولہ یعنی تاویل کرنے والے کہا جاتا ہے – ان میں امام بیہقی ، ابن جوزی ، ابن حجر عسقلانی ، نووی وغیرہ ہیں -
راقم کی تحقیق کے مطابق آیات قرانی کے حوالے سے المفوضہ کا موقف یعنی امام مالک کا موقف درست ہے اور اسماء و صفات میں احادیث کی تاویل کے حوالے سے اشاعرہ کا منہج درست ہے
كن أول من يقيم ويراجع ويقتبس من الكتاب
كن أول من يقيم ويراجع ويقتبس من الكتاب
الكتب الإلكترونية هي مكملة وداعمة للكتب الورقية ولا تلغيه أبداً بضغطة زر يصل الكتاب الإلكتروني لأي شخص بأي مكان بالعالم.
قد يضعف نظرك بسبب توهج الشاشة، أدعم ناشر الكتاب بشراءك لكتابه الورقي الأصلي إذا تمكنت من الوصول له والحصول عليه فلا تتردد بشراءه.
أنشر كتابك الآن مجانا
نحن بحاجة لملفات تعريف الارتباط لكي يعمل هذا الموقع. يرجى تمكينها للمتابعة.
نحن نظهر لك هذه الرسالة لأننا نحترم خصوصيتك.
بإستخدامك هذا الموقع أنت توافق لنا على جمع ملفات تعريف الارتباط "الكوكيز" لتقديم تجربة مستخدم أفضل،
المزيد من التفاصيل.
لا يمكن تصفح الموقع طالما رفضت استخدام الكوكيز لأن الموقع يعتمد عليه بشكل أساسي للعمل
الملكية الفكرية محفوظة للمؤلفين المذكورين على الكتب والمكتبة غير مسئولة عن افكار المؤلفين
يتم نشر الكتب القديمة والمنسية التي أصبحت في الماضي للحفاظ على التراث العربي والإسلامي
، والكتب التي يتم قبول نشرها من قبل مؤلفيها.
وينص الإعلان العالمي لحقوق الإنسان على أنه "لكل شخص حق المشاركة الحرة في حياة المجتمع الثقافية، وفي الاستمتاع بالفنون، والإسهام في التقدم العلمي وفي الفوائد التي تنجم عنه. لكل شخص حق في حماية المصالح المعنوية والمادية المترتِّبة على أيِّ إنتاج علمي أو أدبي أو فنِّي من صنعه".